دل ناشاد

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غمگین، رنجیدہ، ملول۔  اک عمر یونہی کٹ گئی کیا پوچھتا ہے یار تو اور شہر ہے دل ناشاد اور دشت      ( ١٨٠٩ء، جرات، کلیات، ٢٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دل' کے بعد کسرہ صفت لگا کر 'نا' بطور حرف نفی کے ساتھ فارسی اسم صفت 'شاد' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٠٩ء سے "کلیات جرات" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر